8 اپریل 2026 - 05:48
ٹرمپ ہینڈز اپ، ایران نے اپنی شرطیں منوا لیں/ سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کا بیان

اگر، مذاکرات کے دوران، میدان میں دشمن کا تسلیم ہونا اور سرجھکانا؛ حتمی سیاسی و سفارتی حصول یابی پر منتج ہوجاتا ہے  ہم سب ملک کر اس عظیم کامیابی پر جشن منائیں گے ورنہ ہم پھر بھی مل کر  انتہا تک ملت ایران کے تمام تر مطالبات پر عملدرآمد کرانے تک، میدان میں اتریں کے اور دوش بدوش لڑیں گے / ہمارے ہاتھ ٹریگرز پر ہیں اور اگر دشمن چھوٹی سے چھوٹی غلطی کا ارتکاب کرے تو، ہم پوری طاقت سے اس کا جواب دیں گے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) ـ ابنا ـ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے:

ایران کی شریف قوم! دشمن آپ کو جان لینا چاہئے کہ دشمن نے آپ ان کے فرزندوں کی مجاہدت اور آپ کی میدان میں تاریخی موجودگی  کی برکت سے کی بنا پر، ایران کے انتہائی شدید حملے روکنے کے لئے ایک مہینے سے مسلسل جنگ بندی کی بھیک مانگتا رہ ہے لیکن لیکن ملکی ذمہ داران نے انہیں مسترد کرکے فیصلہ کیا تھا کہ جب تک دشمن کو اپنے کئے پر پشیمان نہ کیا جائے گا، جنگ جاری رہے گی؛ ہم نے اس سلسلے میں دشمن کی طرف سے پیش کردہ ڈیڈلائنز کو اہمیت ہی نہیں دی۔

ایران کے تقریبا تمام اہداف حاصل ہوئے ہیں اور ایران کے بیٹوں نے دشمن کو تاریخی بےبسی اور تا ابد رہنے والی شکست سے دوچار کر دیا ہے۔

ایران کے فیصلے کو قوم کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

چنانچہ جنگ جب تک ضروری ہو جاری رکھی ائے گی اور کامیابیوں کو مکمل اور مستحکم کیا جائے گا اور ایران اور مقاومت کی طاقت و سیادت کو منوایا جائے گا۔

یہ فیصلہ ـ میدان جنگ میں ایران اور مقاومت کی بالادستی اور تمام تر دعوؤں کے باوجود، دھمکیوں پر عملدرآمد سے دشمن کی عاجزی اور ایرانی عوام کے جائز مطالبات سے فریق مقابل کے باضابطہ اتفاق کی بنا پر، اسلامی انقلاب کے رہبر معظم حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی تدبیر اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کی منظوری سے کیا گیا۔

ہم نے دشمن کے تمام منصوبوں کو مسترد کرکے ایک 10 نکاتی منصوبہ پاکستان کے توسط سے امریکی فریق کے لئے بھجوایا:

- آبنائے ہرمز میں ایران کی مسلح افواج سے ہم آہنگی کے ساتھ، کنٹرول شدہ جہازرانی، جو ایران کو منفرد جیوپولیٹیکل اور اقتصادی پوزیشن کا باعث بنے گی۔

- خطے میں مقاومت کے تمام اجزاء کے خلاف جنگ کا خاتمہ، جو طفل کش صہیونی جارحیتوں کی مکمل شکست کا سبب بنے گا۔

- خطے میں تمام اڈوں اور تعیناتیوں کے مراکز سے امریکہ کی جنگی فوسز کا مکمل انخلا۔

- آبنائے ہرمز میں جہازرانی کے لئے ایک نیا پروٹوکول ترتیب دینا، جو اس آبنائے پر ایران کے تسلط کی ضمانت فراہم کرے۔

- ایران کو جنگ کے نقصانات کے عوض ـ ایران کے تخمینوں کے مطابق ـ معاوضہ دیا جائے گا۔

- ایران پر سلامتی کونسل لگی [35 سالہ] پرائمری اور سپلیمنٹری پابندیاں ختم ہونگی۔

- بیرون ملک ایران کے تمام منجمد اثاثے آزاد کئے جائیں گے۔

- سلامتی کونسل کے ایک نافذالعمل قرارداد میں ان تمام نکات کو منظور کرکے سمیٹ لیا جائے گا اور یوں یہ ایک بین الاقوامی قانون بن جائے گا اور یہ ملت ایران کی ایک تاریخی سفارتی کامیابی ہوگی۔

پاکستان کے محترم وزیر ا‏عظم نے اطلاع دی کہ امریکی فریق نے ـ تمام تر ظاہری دھمکیوں کے برعکس ـ ان اصولوں کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر تسلیم کیا ہے کہ اور ایران کے اصولوں کے مقابلے میں سر خم کیا ہے۔

اسی بنیاد پر اعلیٰ سطح پر فیصلہ کیا گیا کہ ایران دو ہفتوں تک صرف ان ہی اصولوں کی بنیاد پر، اسلام آباد میں امریکی فریق سے بات چیت کرے گا۔

زور دیا جاتا ہے کہ یہ جنگ کا اختتام نہیں اور ایران جنگ کے اختتام کو صرف اس وقت قبول کرے گا جب ہمارے منصوبے کے 10 اصولوں کے ساتھ ساتھ، مذاکرات میں، تفصیلات کو بھی حتمی شکل دی جائے۔

یہ مذاکرات فریق مقابل پر مکمل بداعتمادی کے ساتھ 10 اپریل کو اسلام آباد میں شروع ہونگے اور ایران مذاکرات کے لئے دو ہفتوں کا عرصہ معین کرے گا۔ یہ مدت فریقین کے اتفاق سے قابل توسیع ہے۔

موجودہ مذاکرات قومی مذاکرات اور میدان جنگ کا تسلسل ہے، اور ضروری ہے کہ قوم کا فرد فرد، دانشور اور سیاسی جماعتیں اس رہبر انقلاب اسلامی کے زیر نظر انجام پانے والے اس عمل پر بھروسہ کریں، اس کی حمایت کریں اور انتشار اور تفرقہ پھیلانے کا سبب بننے والی کسی بھی بات سے پرہیز کریں۔

اگر، مذاکرات کے دوران، میدان میں دشمن کا تسلیم ہونا اور سرجھکانا؛ حتمی سیاسی و سفارتی حصول یابی پر منتج ہوجاتا ہے  ہم سب ملک کر اس عظیم کامیابی پر جشن منائیں گے ورنہ ہم پھر بھی مل کر  انتہا تک ملت ایران کے تمام تر مطالبات پر عملدرآمد کرانے تک، میدان میں اتریں کے اور دوش بدوش لڑیں گے۔

ہمارے ہاتھ ٹریگرز پر ہیں اور اگر دشمن چھوٹی سے چھوٹی غلطی کا ارتکاب کرے تو، ہم پوری طاقت سے اس کا جواب دیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha